سہارنپور9مئی(آئی این ایس انڈیا)یوپی میں اکھلیش دورکے ایک ایک واقعہ پرجنگل راج کاتمغہ دیاجاتاتھالیکن یوگی راج میں بھی اترپردیش مسلسل شرپسندعناصراورفرقہ پرستی کی زدمیں ہے اورآئے دن مختلف مقامات پرمختلف بہانے سے تشددجاری ہے۔ یہاں تک کہ کھلے عام دلتوں کے گھرتک نذرآتش کیے گئے۔
اتر پردیش کے سہارنپور ضلع میں ایک گاؤں سے شروع ہوا نسلی ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔منگل کو بغیر اجازت کے دلت کمیونٹی کے سیکڑوں لوگ شہر کے گاندھی پارک میں ہاؤس کرنے کے لئے پہنچ گئے۔ انہیں روکنے کے لئے پولیس کو ہلکی کارروائی بھی کرنی پڑی۔ اس کے بعد مشتعل لوگوں نے سہارنپور شہر کے چاروں طرف جم کر ہنگامہ مچایا۔سہارنپور ضلع میں منگل کو سڑکوں پر اترے دلت مظاہرین پرتشدد ہو گئے۔ انہوں نے سڑک پر جام لگایا تو ایک بس کو آگ لگادی۔یہ پرتشددلوگ یہیں پرسکون نہیں ہوئے، تھانہ دیہات کوتوالی تھانہ علاقہ میں پر ہجوم نے کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا۔درجن بھر سے زیادہ دو پہیہ کو جلا دیا گیا۔ وہیں ایک گاڑی بھی سڑک کے وسط میں آگ کے حوالے کر دی گئی۔ شہر کے بیرونی علاقوں میں کئی جگہ پتھراؤ کے ساتھ ساتھ بغاوت بھی کی گئی۔ خاص طور پر پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔اگرچہ منگل کی صورت میں اب کسی کے شدید جانی نقصان کی خبر نہیں ہے لیکن ضلع میں قانون کے علاوہ حالات تشویشناک بنی ہوئی ہے۔سہارنپور کا ماحول کشیدہ ہے۔بھیڑ نے وہاں دلتوں کے تقریباََ25 گھر آگ کے حوالے کر دیئے تھے۔ اس دوران درجن بھر سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے تھے۔جنہیں ضلع ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ تمام زخمی دلت کمیونٹی کے ہیں، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔واقعہ کے بعدآئی جی زون اجے آنند بھی گاؤں میں گئے تھے۔ واقعہ کے بعد زخمیوں کا حال جاننے کے لئے سابق ممبر اسمبلی جگپال سنگھ، سابق ممبر اسمبلی مہیپال سنگھ، بی ایس پی ضلع صدر جنیشور پرساد، نریش گوتم، شادان مسعود، شہرممبراسمبلی سنجے گرگ، ایس پی ضلع صدر چودھری جگپال غلام وغیرہ بھی ضلع ہسپتال پہنچے تھے۔ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ضلع اسپتال میں بھی پولیس فورس تعینات کیاگیاہے۔